Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

Responsive Advertisement

ٹیکنالوجی سے متعلق خفیہ انکشاف



دن بدن سائنس اور ٹیکنالوجی میں اضافہ ہورہا ہے۔ انہی کی بدولت نت نئی ایجادات ہماری زندگیوں کا حصہ بن رہی ہیں۔ یہ ساری ایجادات انسان کی سہولیات کے لئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ایجادات کے فوائد کے ساتھ ساتھ نقصانات بھی ہوتے ہیں۔ افسوس ہم ایسے معاشرے میں زندگی بسر کر رہے ہیں جہاں صرف فوائد دیکھے جاتے ہیں ۔ جب کوئی ایجاد معاشرے کا حصہ بنتی ہے تو وہاں اس کے فوائد کے ساتھ نقصانات اور بالخصوص اس کے استعمال سے متعلق ذمہ داران کے لئے ہدایات بھی ساتھ ہوتی ہیں۔ مثال کے طور جب معاشرے میں کمپیو ٹر کا استعمال وارد ہوا تو اس کے ساتھ والدین اور اداروں کو اس کے استعمال سے متعلق ہدایات دی گئیں کہ اس کے زیادہ استعمال سے بصارت پر فرق پڑ سکتا ہے ، اس سے وقت کا زیاں ممکن ہے ، جہاں کمرے میں رکھا جائے تو اس کی سکرین کا رُخ دروازے کی جانب رکھیں تا کہ والدین اور دیگر یہ آسانی سے دیکھ سکیں کہ بچے یا ملازمین کمپیوٹر پر کون سا کام کر رہے ہیں ، بجلی کے استعمال کے حوالے سے مناسب ہدایات ، کمپیوٹر کا مستقل عادی بننے سے گریز اور ایسی بے شمار مفید ہدایات دی گئیں تاکہ کمپیوٹر کے فوائد زائل نہ جائیں۔ بدقسمتی سے جب بھی کوئی نئی ایجاد ہمارے معاشرے کا حصہ بنتی ہے تو ہم صرف اس کے فوائد کو مد نظر رکھتے ہیں اور نقصانات سے چشم پوشی کی روش رکھتے ہیں۔ ہم اس کے استعمال کی ہدایات میں بالکل دل چسپی نہیں رکھتے۔ یوں ٹیکنالوجی ہمیں دیمک کی طرح چاٹنا شروع کر دیتی ہے۔ ٹیکنالوجی بے شک انسان کی سہولت کے لئے ہوتی ہے لیکن ہم اس کے اتنا عادی ہو جاتے ہیں کہ تن آسان اور سست و کاہل بن جاتے ہیں۔ 
وسائل کے ساتھ ساتھ مسائل بھی بڑھتے چلے گئے۔ اگر کچھ دہائیاں پیچھے چلے جائیں تو جہاں نہ یہ آسانیاں تھیں وہیں کئی دیگر مسائل بھی نہ تھے۔ اب وہ بھی ان کی وجہ سے بڑھ گئے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کی دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے لوگوں میں بھائی چارہ عام پایا جاتا تھا لیکن آج کل تو ایک معاشرے میں رہے کہ بھی یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ہمارے ساتھ والا کس حا ل میں ہے اور وہ کیا کر رہا ہے۔ تجرباتی طور پر ایک معاشرتی زندگی مکمل طور پر ختم ہوکر رہے گئی۔ گلوبل ولیج کی دنیا میں انسان کی جگہ مادیت پرستی نے لے لی۔ محبت نے مطلب اختیار کر لیا۔ اچھائی اور


 اخلاقیات کی جگہ فحاشہ و بے حیائی نے بڑی دھوم سے لے لی

انٹرنیٹ کے چند بڑے نقصانات:
انٹرنیٹ کے یقینا بہت سے فوائد ہیں جن سے کسی کو انکار نہیں ، لیکن اس کے نقصانات بھی بہت زیادہ ہیں جس سے کوئی نظریں نہیں چرا سکتا، بچوں کو انٹرنیٹ فراہم کردینا اور پھر ان کی نگرانی نہ کرنا ایک ایسا المیہ ہے جس نے ہماری نوجوان نسل کی حیا کا جنازہ نکال دیا ہے۔ بچوں کی نگرانی کرنے کا ہرگز بھی یہ مقصد نہیں ہے کہ ان پربلاوجہ شک کیا جائے ، بلکہ اس کا مقصد صرف اتنا ہے کہ بچے کو معلوم ہو کہ مجھے ہر چیز کی آزادی حاصل نہیں ۔ انٹرنیٹ کے بڑے نقصانات میں سے چند درج ذیل ہیں:

(1) عقائد میں بگاڑ اور فساد

                  انٹرنیٹ کے صارف کے سامنے ایک پوری دنیا کھلی ہے، وہ جو چاہے دیکھ سکتا ہے سن سکتا ہے پڑھ سکتا ہے، ہزاروں لاکھوں ویب سائٹس تک اس کی رسائی ہے، اس چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے دشمنان اسلام نے مسلمانوں کے عقائد و نظریات کو تبدیل کرنے کا سب سے آسان اور مؤثر ذریعہ انٹرنیٹ ہی کو بھرپور استعمال کیا ہے، کسی بھی سرچ انجن میں لفظ’’GOD‘‘لکھتے ہی ہزاروں عیسائی ویب سائٹس سامنے آجاتی ہیں، اسی طرح یہودی دعوتی ویب سائٹس کی بھی مختلف زبانوں جیسے انگلش، عربی، جرمن وغیرہ میں بھرمار ہے ، ایک اندازہ کے مطابق صرف ایک مہینہ میں ان یہودی اور اسرائیلی ویب سائٹس کے زائرین کی تعداد پانچ لاکھ سے زیادہ ہے۔جہاں تک دیگر مذاہب باطلہ کی بات ہے تو ان کی بھی بےشمار دعوتی ویب سائٹس موجود ہیں ، جن میں قادیانی ، منکرین حدیث، کذاب

  مدعی نبوت جیسے یونس کذاب جس نے ہالینڈ میں نبوت کا جھوٹا دعوی کیا ہے کی ویب سائٹ موجود ہے، اسی طرح ملعون گوہر شاہی کے خلیفہ اور ماننے والوں کی ویب سائٹس بھی موجود ہیں ، اس کے ساتھ ساتھ شیطانی مذہب کے پیروکار جو کہ تمام ادیان کے انکاری ہیں اور کفروالحاد کے داعی ہونے کے ساتھ ساتھ انسانیت اور عفت وحیا ، اور محرمات کے ساتھ نکاح نہ کرنے کی پابندی کو لغو قرار دیتے ہیں ، برہنہ رہنے ، ہر قسم کی برائی کرنے اور شیطان کی عبادت کرنے کی ترغیب دیتے ہیں ، ایسے شیطان کے پجاریوں کی ویب سائٹس بھی انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔
مسلم نوجوان جو عموما ویسے بھی بدقسمتی سے اسلامی عقائد سے مکمل آگاہ نہیں اور دین سے بیزار ہےوہ ان ویب سائٹ کا براہ راست نشانہ ہے، کتنے ہی مسلم نوجوان اس قسم کی ویب سائٹس کا وزٹ کرکے اور ان کا لٹریچر پڑھ کر گمراہ ہوچکے ہیں۔
اسی طرح یہ معاملہ بھی نظر میں آتا ہے کہ بہت سے ایسے افراد دین اسلام کے احکامات ، نازک اور اہم مسائل کے بارے میں بحث ومباحثہ کرتے ہیں جو دین کا صحیح علم نہیں رکھتے ، یہ انٹرنیٹ پر مفتی کا درجہ اختیار کرلیتے ہیں اور بغیر علم کے فتوے دیتے چلے جاتے ہیں ، امام البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ایسے نوجوانوں کی کتنی کثرت ہوچکی ہے جو بالکل جاہل مطلق ہونے کے باوجود مسلمانوں کے اہم معاملات پر گفتگو کرتے نظر آتے ہیں ۔

(3)  اخلاقی گراوٹ اور فحاشی و عریانی

یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ انٹر نیٹ پر فحش مواد کتنی آسانی سے دستیاب ہے ، اور یہ فحش مواد ہماری نوجوان نسل کو اتنی بڑی تباہی کی طرف لے جارہا ہے جس کا شاید ہمیں ابھی اندازہ بھی نہیں ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق انٹرنیٹ پر تقریبا 35 کروڑ ویب سائٹس موجود ہیں ، ان میں
  سے اکثر ویب سائٹ بہت مفید بھی ہیں ، ان ویب سائٹس میں سے فحش مواد والی ویب سائٹ کا تناسب صرف 2 فیصد ہے ، لیکن بہت آسان حساب کے ذریعہ ہمیں معلوم ہوسکتا ہے کہ 35 کروڑ کا 2 فیصد تقریبا 70 لاکھ بنتا ہے، یعنی انٹرنیٹ پر تقریبا 70 لاکھ فحش مواد کی حامل ویب سائٹس ہیں اور ہر تین منٹ میں ایک نئی فحش ویب سائٹ وجود میں آرہی ہے ، اور یہ جان کر یقینا آپ کو دھچکا لگے گا کہ انٹرنیٹ صارفین میں سے نوے فیصد صارفین ان 2 فیصد ویب سائٹس کا وزٹ کرتے ہیں۔




Post a Comment

3 Comments